نسبة | النسبة الأولى: نسبة الطهارة

الجزء الأول › الباب 3: وظائف النسبات

النسبة الأولى: نسبة الطهارة

نسبة الطهارة إلى نيلها

نسبة الطهارة إلى نيلها من أجل الحصول على نسبة الطهارة، فمن المفيد قراءة الأسماء والآيات التالية بكثرة، مع جمع القلب والشوق والمحبة القلبية.

1. يَا نُوْرُ یَا مُنَوِّرُ

2. یَا طَاهِرُ یَا مُطَهِرُ

3. ورد آية النور بكثرة

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

اللهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط مَثَلُ نُوْرِهٖ کَمِشْکٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ ط اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ ط اَلزُّجَاجَةُ کَأَنَّهَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَکَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّلَا غَرْبِیَّةٍ یَّکَادُ زَیْتُهَا یُضِٓیْئُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ط نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ط یَھْدِی اللهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ط وَ یَضْرِبُ اللهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ط وَاللهُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ ۝ (النور، 24: 35)

’’اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال (جو نورِ محمدی ﷺ کی صورت میں دنیا میں روشن ہوا) اس طاق (یعنی سینہ اقدس) جیسی ہے جس میں چراغ (یعنی نورِ نبوت) روشن ہے، (وہ) چراغ فانوس (یعنی قلبِ محمدی) میں رکھا ہے، (یہ) فانوس (نورِ الٰہی کی شعاع سے) اس قدر منور ہے گویا ایک درخشندہ ستارہ ہے، (یہ چراغِ نبوت) مبارک زیتون کے درخت سے روشن ہوا ہے، نہ (فقط) مشرقی ہے اور نہ غربی، (بلکہ اپنے نورِ فیض کی وسعت میں عالمگیر ہے، اس چراغِ نبوت کی مثال یوں ہے جیسے) اس کا تیل چمک رہا ہو اگرچہ ابھی اسے (روحانی ربانی اور معجزاتِ آسمانی کی) آگ نے چھوا بھی نہ ہو، (تو وہ) نور پر نور ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور (کی معرفت) تک پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں (کی ہدایت) کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے۔‘‘

4. دعائے نور جو حضور ﷺ کے خصوصی اوراد میں سے ہے

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِیْ نُوْرًا فِیْ قَلْبِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ قَبْرِیْ، وَ نُوْرًا مِنْ بَیْنَ یَدَیَّ، وَ نُوْرًا مِنْ خَلْفِیْ، وَ نُوْرًا عَنْ یَمِیْنِیْ، وَ نُوْرًا عَنْ شِمَالِیْ، وَ نُوْرًا مِنْ فَوْقِیْ، وَ نُوْرًا مِنْ تَحْتِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ سَمْعِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ بَصَرِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ شَعْرِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ بَشَرِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ لَحْمِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ دَمِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ عِظَامِیْ. اَللّٰھُمَّ! أَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا، وَ أَعْطِنِیْ نُوْرًا، وَ اجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا.

1. ترمذی، الجامع الصحیح، 5: 482، ابواب الداعوات، رقم: 3419

2. بخاری، الصحیح، 5: 2327،کتاب الدعوات، رقم: 5957

3. مسلم، الصحیح، 1: 526، کتاب صلاۃ المسافرین، رقم: 763

’’اے اللہ! میرے دل میں نور بھر دے، میری قبر میں نور بھر دے، میرے آگے نور کر دے، میرے پیچھے نور کر دے، میرے دائیں نور کر دے، میرے بائیں نور کر دے، میرے اوپر نور کر دے، میرے نیچے نور کر دے، میری سماعت میں نور کر دے، میری بصارت میں نور کر دے، میرے بالوں میں نور کر دے، میری جلد میں نور بھر دے، میرے گوشت میں نور بھر دے، میرے خون میں نور بھر دے اور میری ہڈیوں میں نور بھر دے۔ اے اللہ! میرے لیے نور کو بڑھا دے، مجھے نور عطا فرما اور مجھے نور ہی نور بنا دے۔‘‘

5. سورۃ البقرۃ

إِنَّ اللهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِرِیْنَ ۝ (البقرۃ، 2: 222)

’’بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘

6. سورۃ المائدۃ

یٰآ أَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَکُمْ وَ أَیْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُؤُوْسِکُمْ وَ أَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ ط (المائدة، 5: 6)

’’اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز کے لیے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لیے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)۔‘‘

قَدْ جَآئَکُمْ مِّنَ اللهِ نُورٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنٌ ۝ (المائدۃ، 5: 15)

’’بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور (یعنی حضرت محمد ﷺ) آگیا ہے اور ایک روشن کتاب (یعنی قرآن مجید)۔

7. سورۃ الأنعام

فَمَنْ یُّرِدِ اللهُ أَنْ یَّھْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْإِسْلَامِ ۝ (الانعام، 6: 125)

’’پس اللہ جس کسی کو (فضلاً) ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے (تو) اس کا سینہ اسلام کے لیے کشادہ فرما دیتا ہے۔‘‘

8. سورۃ الأعراف

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْٓ أُنْزِلَ مَعَهٗٓ أُولٰـئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۝ (الاعراف، 7: 157)

’’پس جو لوگ (برگزیدہ رسول ﷺ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان (کے دین) کی مدد و نصرت کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘

8. سورۃ التوبۃ

یُرِیْدُوْنَ أَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللهِ بِأَفْوَاھِهِمْ وَیَاْبَی اللهُ اِلآَّ أَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ کَرِهَ الْکَافِرُوْنَ ۝ (التوبہ، 9: 32)

’’وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ (یہ بات) قبول نہیں فرماتا مگر یہ (چاہتا ہے) کہ وہ اپنے نور کو کمال تک پہنچادے اگرچہ کفار (اسے) ناپسند ہی کریں۔‘‘

لَا تَقُمْ فِیْهِ أَبَدًا ط لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ ط فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَھَّرُوْا وَاللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِرِیْنَ ۝ (التوبہ، 9: 108)

’’(اے حبیب!) آپ اس (مسجد کے نام پر بنائی گئی عمارت) میں کبھی بھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے حقدار ہے کہ آپ اس میں قیام فرما ہوں۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو (ظاہراً و باطناً) پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ طہارت شعار لوگوں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘

10. سورۃ القصص

فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْأَجَلَ وَ سَارَ بِأَھْلِهٖٓ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا ج قَالَ لِاَھْلِهِ امْکُثُوْٓا إِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ ۝ فَلَمَّآ أَتٰهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِیئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَکَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَنْ یّٰمُوْسٰٓی إِنِّیْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ ۝ (القصص، 28: 29۔30)

’’پھر جب موسیٰ نے مقررہ مدت پوری کرلی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو کوہِ طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی (وہ مانوس سا شعلہ محبت جو کسی اور کو نظر نہ آیا اور) اپنے گھر والوں سے کہا: ذرا ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید میں تمہارے پاس وہاں سے کوئی خبر لاؤں (کہ ہم کہاں ہیں اور کدھر جا رہے ہیں) یا آگ کا ایک انگارہ ہی لے آؤں تاکہ تم (اس سردی کی رات میں ہاتھ) سینکو۔ پھر جب اس (روشنی) کے قریب پہنچے تو (پہلی قربت کی علامت یہ تھی کہ) میدان کے داہنی جانب ایک مبارک مقام میں ایک درخت سے یہ آواز آئی کہ اے موسیٰ میں ہی اللہ ہوں سب جہانوں کا پالنے والا۔‘‘

11. سورۃ الأحزاب

إِنَّمَا یُرِیْدُ اللهُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَھْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِرَکُمْ تَطْهِیْرًا ۝ (الاحزاب، 33: 33)

’’اے (نبی کے) گھر والو اللہ چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح کی) آلودگی دور کر دے اور تم کو خوب پاک و صاف کردے۔ـ‘‘

ھُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَ مَلَآئِکَتُهُ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَی النُّوْرِ ط وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا ۝ (الاحزاب، 33: 43)

’’وہی تو ہے جو تم پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی (دعائے مغفرت کرتے ہیں) تاکہ اللہ تعالیٰ تم کو تاریکیوں سے نور کی طرف لے آئے (ایمان کے بعد عالمِ انوار میں تم کو رواں دواں لے جائے تاکہ کسی ایک مقام میں ٹھہر جانے سے بھی ظلمت نہ آئے) اور اللہ مؤمنوں پر (آخرت میں بھی) بہت رحم فرمانے والا ہے (وہ ان کے گناہ بخشے گا انہیں بلند سے بلند تر مقام عطا فرمائے گا)۔‘‘

12. سورۃ الزمر

أَفَمَنْ شَرَحَ اللهُ صَدْرَهٗ لِلْإِسْلَامِ فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ ط فَوَیْلٌ لِّلْقَاسِیَةِ قُلُوْبُھُمْ مِّنْ ذِکْرِ اللهِ ط أَولٰـئِکَ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ ۝ (الزمر، 39: 22)

’’بھلا جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کشادہ کردیا ہو وہ تو اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (سر تا پا ہدایت بن جاتا ہے، سراپا نور ہوجاتا ہے، اس کا اس کافر سے کیا مقابلہ جو مبتلائے کفر ہے)، پس خرابی ہے ان کے لیے جن کے دل اللہ کی یاد کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔‘‘

13. سورۃ الشوریٰ

وَ کَذٰلِکَ أَوْحَیْنَآ إِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ أَمْرِنَا ط مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَابُ وَلَا الْإِیْمَانُ وَلٰـکِنْ جَعَلْنَاهُ نُوْرًا نَّھْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا ط وَ إِنَّکَ لَتَھْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۝ (الشوریٰ، 42: 52)

’’اور اسی طرح (اے حبیب!) ہم نے آپ کی طرف ایک جاں فزا حقیقت (یعنی قرآن) کو اپنے حکم سے بھیجا، (وہ کتاب جو تمام کتبِ سماویہ کا نچوڑ ہے) اور آپ (تو جمالِ الٰہی کے شیدائی تھے، آپ) نہ یہ جانتے تھے کہ کتاب (اللہ) کیا ہے اور نہ آپ کو یہ خبر تھی کہ (کمالِ) ایمان کیا ہے (تفصیلات میں اس کے انوار کی لذت کیا ہے) لیکن (اے حبیب) ہم نے اس (کتاب) کو نور (و انوار کا خزینہ) بنا دیا ہے اور اس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں (آپ جسے چاہیں نور و نورانیت میں لا کر راہِ ہدایت دکھا سکتے ہیں) اور اس میں کچھ شبہ نہیں کہ آپ راہِ حق کی ہدایت کر رہے ہیں۔‘‘

14. سورۃ الحدید

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ أَیْدِیْھِمْ وَ بِأَیْمَانِھِمْ بُشْرَاکُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْھٰرُ خَالِدِیْنَ فِیْهَا ط ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۝ یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنَافِقُوْنَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ ج قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَٓائَکُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا ط فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ ط بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ ۝ ط (الحدید، 57: 12،13)

’’جس دن آپ (اپنے) مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو دیکھیں گے کہ ان کے آگے (آگے) اور ان کے داہنے جانب ان کا نور دوڑتا ہوا چلا جا رہا ہو گا (جو ان کے ماحول کو روشن کیے ہو گا یہ ان کے ایمان اور عملِ صالح کا نور ہوگا، ان سے کہا جائے گا: لو) آج تم کو بشارت ہے ایسے باغوں کی جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جہاں تم ہمیشہ رہوگے (اور اس جنت کا مل جانا اور پاجانا) یہی بڑی کامیابی ہے۔ (اس روز منافق اس روشنی کی تمنا کریں گے جس سے آج یہ منہ پھیر رہے ہیں) اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے کہ ذرا ٹھہرو تو (کیسی تیزی سے جا رہے ہو ذرا ہم کو بھی ساتھ لے لو) کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں، ان سے کہا جائے گا: (حصولِ نور کی جگہ دنیا تھی، ہو سکے تو) تم پیچھے لوٹ جاؤ پھر (وہاں) روشنی تلاش کرو پھر ان کے (اور اہل ایمان کے) درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا، اس کے اندر کی جانب رحمت ہوگی اور اس کے سامنے باہر کی طرف (جدھر منافق، کافر ہوں گے) عذاب ہو گا۔‘‘

15. سورۃ التحریم

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

یٰٓا اَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللهِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا ط عَسٰی رَبُّکُمْ أَنْ یُّکَفِّرَعَنْکُمْ سَیِّئٰاتِکُمْ وَ یُدْخِلَکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللهُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ج نُوْرُھُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ بِاَیْمَانِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ أَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْلَنَا ج إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ۝ (التحریم، 66: 8)

’’اے ایمان والو! اللہ کے آگے سچے دل سے توبہ کرلو (یعنی گناہ کا خیال بھی نہ آئے اس میں کوئی لذت ہی باقی نہ رہے) امید ہے کہ تمہارا رب (معاف فرما کر) تمہارے گناہ تم سے دور کردے گا اور تم کو جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی (یہ وہ دن ہوگا) جس دن اللہ اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو آپ کے ساتھ ایمان لائے رسوا نہ کرے گا (اس روز) ان کا نورِ (ایمان) ان کے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑتا چلا جاتا ہوگا، وہ دعا کرتے ہوں گے: اے ہمارے رب! ہمارا نور ہمارے لیے مکمل فرما دے (عرش سے فرش تک منور ہو جائے سب نظر آئے) اور ہم کو بخش دے، بیشک تو ہر بات پر قادرہے۔‘‘

16. سورۃ المدثر

یٰٓا اَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۝ قُمْ فَاَنْذِرْ ۝ وَ رَبَّکَ فَکَبِّرْ ۝ وَ ثِیَابَکَ فَطَھِّرْ ۝ (المدثر، 74: 1۔4)

’’اے کپڑے میں لپٹنے والے (محبوب ﷺ!)۔ اٹھیے (اور پھر) لوگوں کو خدا کا خوف دلائیے (تاکہ وہ اپنے اعمالِ بد کے نتائج سے ڈریں)۔ اور اپنے پروردگار کی بڑائی (اور عظمت) بیان فرمائیے۔ اور اپنا لباس پاک رکھیئے۔‘‘

Keywords: nisbat, spiritual connection, sulook, tasawwuf

Source: Al-Fuyudat al-Muhammadiyya, Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri (Minhaj Books)