استخارہ | نفلی نمازوں کے فضائل و برکات — ۸۔ نمازِ استخارہ
حصہ اول › باب 1: وظائف الصلوات
نفلی نمازوں کے فضائل و برکات — 8۔ نمازِ استخارہ
1۔ اگر کوئی شخص کسی جائز کام کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا چاہتا ہو تو دو رکعت نمازِ استخارہ پڑھے۔ ان دو رکعات میں سے پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھے پھر درج ذیل دعا پڑھے:
’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَ أَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَأسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ. اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھٰذَا الْأَمْرَ
(یہاں اپنی حاجت کا ذکر کرے)
خَیْرٌ لِیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ مَعَادِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ، فَاقْدُرْهُ وَیَسِّرْهُ لِیْ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْهِ. وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأمْرَ
(یہاں اپنی حاجت کا ذکر کرے)
شَرٌّ لِّیْ، فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ مَعَادِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ فَاصْرِفْهُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْهُ وَ اقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ أَرْضِنِیْ بهٖ. (صحیح البخاری، ابواب التطوع)
2۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ ہم کو تمام معاملات میں استخارہ کی اس طرح تعلیم فرماتے تھے جیسے قرآن کی سورت تعلیم فرماتے تھے۔
3۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جب تو کسی کام کا ارادہ کرے تو اپنے رب سے اس میں 7 بار استخارہ کر پھر جس کی طرف تمہارا دل مائل ہو تو اس کام کے کرنے میں تمہارے لیے خیر ہے۔
ز بہتر ہے کہ استخارہ پیر کی رات سے شروع کریں اور سات دن تک جاری رکھیں۔ ان شاء اللہ خواب میں علامات نظر آئیں گی جن سے مثبت یا منفی اشارہ مل جائے گا۔
کلیدی الفاظ: استخارہ، نماز، صلاۃ، نماز کے بعد وظائف
ماخذ: الفیوضات المحمدیہ، ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (منہاج بکس)