تہجد | نفلی نمازوں کے فضائل و برکات — 1۔ نمازِ تہجد

حصہ اول › باب 1: وظائف الصلوات

نفلی نمازوں کے فضائل و برکات — 1۔ نمازِ تہجد

اس کی کم از کم دو(2) رکعتیں ہیں۔ مسنون رکعات آٹھ(8) ہیں اور مشائخ کے ہاں بارہ (12) رکعات کا معمول بھی ہے۔

بعد نمازِ عشاء سو کر جس وقت بھی اٹھ جائیں پڑھ سکتے ہیں۔

بہتر وقت دو (2) ہیں: نصف شب یا آخری شب

تہجد کے لیے اٹھنے کا یقین ہو تو وتر رات کو چھوڑ سکتے ہیں۔ اس صورت میں وتر کو نمازِ تہجد کے ساتھ آخر میں پڑھیں یوں کل گیارہ (11) رکعات بن جائیں گی ورنہ وتر بھی نمازِ عشاء کے ساتھ پڑھ لینا بہتر ہے۔

یہ نماز تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے مناجات اور ملاقات کا دروازہ ہے اور انوار و تجلیات کا خاص وقت ہے۔ احادیثِ نبوی ﷺ میں اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے:

1۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو تمام (نفل) نمازوں میں سب سے زیادہ محبوب نماز صلاةِ داؤد علیہ السلام ہے، وہ آدھی رات سوتے، (پھر اٹھ کر) تہائی رات عبادت کرتے اور پھر چھٹے حصے میں سو جاتے۔

2۔ صحیح مسلم، سنن ترمذی، صحیح ابن حبان، مسند احمد، سنن دارمی، سنن بیہقی، مسند ابویعلیٰ اور شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز، نمازِ تہجد ہے۔

3۔ طبرانی نے اسنادِ حسن کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے کہ مومن کا شرف نمازِ تہجد اور افتخار لوگوں سے استغناء ہے۔

4۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رات جب پچھلی تہائی باقی رہتی ہے تو اللہ رب العزت آسمانِ دنیا پر تجلی فرما کر ارشاد فرماتا ہے: ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے عطا کروں؟ ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ اس کی بخشش کروں۔

5۔ سنن ترمذی و سنن ابن ماجہ اور حاکم میں بہ شرط شیخین حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! سلام (کرنا) عام کرو، لوگوں کو کھانا کھلاؤ، رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو اور رات کو اس وقت نماز پڑھو جب لوگ سوتے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔

6۔ بیہقی نے حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ ایک میدان میں جمع کیے جائیں گے اور اس وقت پکارنے والا پکارے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جن کی کروٹیں خوابگاہوں سے جدا ہوتی تھیں؟ ایسے لوگ کھڑے ہوں گے جو تھوڑے ہوں گے اور بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے، اس کے بعد دوسرے لوگوں کے لیے حساب کا حکم ہو گا۔

7۔ ترمذی نے حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیام اللیل (نمازِ تہجد) کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ یہ گزشتہ نیک لوگوں کا طریقہ، تمہارے رب کی قربت کا ذریعہ، برائیوں کا کفارہ اور گناہوں سے رکاوٹ ہے۔

Keywords: تہجد، نماز، صلاۃ، نماز کے بعد کے وظائف

Source: الفیوضات المحمدیہ، ڈاکٹر محمد طاہر القادری (منجح بکس)