نسبت | ساتویں نسبت: نسبتِ وجد

حصہ اول › باب 3: وظائف النسبات

ساتویں نسبت: نسبتِ وجد

نسبتِ وجد کے حصول کے وظائف

اس نسبت کے حصول کے لیے درج ذیل وظائف و معمولات مفید ہیں۔

1۔ درد و سوز اور مؤثر لحن کے ساتھ بکثرت تلاوتِ قرآن کرنا، سننا اور اس سے ذوق پیدا کرنا۔

2۔ محافلِ میلاد اور مجالسِ نعت میں نعتیہ اور عارفانہ کلام سننا اور اس سے ذوقی کیفیت حاصل کرنا۔

3۔ آداب کے ساتھ محفلِ سماع میں شرکت کرنا اور اس سے وجدانی کیفیت حاصل کرنا۔

4۔ رقت آمیز احادیث، انبیاء، اولیاء اور صالحین کی ایسی حکایات اور تذکروں کا مطالعہ کرنا جو دل پر اثر انداز ہوں اور روحانی کیفیت پیدا کریں۔

5۔ کتبِ تصوف سے احوالِ صوفیاء کے جذب انگیز مضامین کا مطالعہ کرنا۔

6۔ سمندروں، دریاؤں، جھیلوں، پہاڑوں، سرسبز وادیوں اور چشموں وغیرہ کو دیکھنا، اور ان خوبصورت مناظر و فطرت کے نظاروں سے قلب و روح میں تازگی، روحانی جوش اور وجد انگیز کیفیات پیدا کرنا۔

اس سلسلے میں بطورِ خاص

7۔ قرآنِ مجید میں بخشش و رحمت اور اخروی انعامات کے پراثر اور پرکیف مقامات کی تلاوت کرنا نہایت مفید ہے۔

8۔ جنت و دوزخ کے اثر آفریں مقامات کی تلاوت کرنا اور ان کے معانی و مطالب کے اثرات، تصورات اور کیفیات میں کھو جانا۔ اس نسبت کے حصول کے لیے درج ذیل آیات کو بطورِ وظیفہ کثرت سے، دلجمعی اور قلبی شوق و محبت کے ساتھ پڑھنا مفید ہے۔

چند آیات درج ذیل ہیں:

1. سورۃ الصافات

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۝ إِلَّا عِبَادَ اللهِ الْمُخْلَصِیْنَ ۝ اُوْلٰـئِکَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ ۝ فَوَاکِهُ وَ هُمْ مُّکْرَمُوْنَ ۝ فِیْ جَنَّاتِ النَّعِیْمِ ۝ عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقَابِلِیْنَ ۝ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِکَأْسٍ مِّن مَّعِیْنٍم ۝ بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِیْنَ ۝ لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّلَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ ۝ وَ عِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِیْنٌ ۝ کَأَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ ۝ (الصافات، 37: 39۔49)

’’اور تم کو ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسا تم (دنیا میں) عمل کیا کرتے تھے۔ مگر اللہ کے مخلص بندے (اس سے مستثنیٰ ہیں، ان پر اللہ کے انعامات اور نوازشیں ہوں گی)۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے (اللہ کے یہاں) روزی مقرر ہے۔ (ان کے لیے) میوے ہوں گے اور ان کی عزت و تکریم کے ساتھ مہمان نوازی کی جائے گی۔ وہ نعمتوں کے باغوں میں مقیم ہوں گے۔ تختوں پر آمنے سامنے جلوہ افروز ہوں گے۔ ان کے درمیان خالص شراب کے جام گردش میں ہوں گے، جو سفید اور پینے والوں کے لیے نہایت لذت بخش ہوگی۔ اسے پی کر نہ سر چکرائے گا اور نہ لوگ بہکیں گے۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی بڑی آنکھوں کی حوریں ہوں گی، گویا وہ محفوظ انڈے ہیں (جنہیں اللہ نے خوش رنگ اور دلکش بنایا ہے اور جن کی دلکشی محفوظ رہی ہے)۔‘‘

2. سورۃ ص

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

هٰذَا ذِکْرٌ ط وَ إِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ ۝ جَنَّاتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّھُمُ الْأَبْوَابُ ۝ مُتَّکِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاکِهَةٍ کَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ ۝ وَ عِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ أَتْرَابٌ ۝ هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ ۝ إِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍ ۝ هٰذَا وَ إِنَّ لِلطَّاغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍ ۝ جَهَنَّمَ یَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ ۝ هٰذَا فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌ ۝ وَّ اٰخَرُ مِنْ شَکْلِہٖٓ أَزْوَاجٌ ۝ (ص، 38: 49۔58)

’’اور یہ (بیان کردہ واقعات بذاتِ خود) نصیحت ہیں، اور (اس بات کی شہادت ہیں کہ) بے شک پرہیزگاروں کے لیے بہت اچھا ٹھکانہ ہے۔ ان کے لیے ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں، جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے۔ وہ وہاں تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور مشروبات طلب کریں گے۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی ہم عمر (با حیا) حوریں ہوں گی۔ اور یہ وہی (نعمتیں) ہیں جن کا تم سے روزِ حساب کے لیے وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ ہمارا دیا ہوا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ یہ تو متقیوں کا حال ہوا، اور یقیناً سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانہ ہے: دوزخ، جس میں وہ داخل ہوں گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ (ان سے کہا جائے گا:) یہ کھولتا ہوا پانی اور پیپ ہے، اسے چکھو۔ اور اس کے علاوہ اسی قسم کی طرح طرح کی دوسری چیزیں بھی (ان کے لیے دوزخ میں موجود) ہوں گی۔‘‘

3. سورۃ الطور

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

إِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنَّاتٍ وَّ نَعِیْمٍ ۝ فَاکِهِیْنَ بِمَآ اٰتَاهُمْ رَبُّهُمْ وَوَقَاهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ۝ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِٓیْئًا م بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۝ مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ وَّ زَوَّجْنَاهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ ۝ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِإِیْمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَمَآ أَلَتْنَاهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْئٍ ط کُلُّ امْرِئٍم بِمَا کَسَبَ رَهِیْنٌ ۝ وَ أَمْدَدْنَاهُمْ بِفَاکِهَةٍ وَّلَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ ۝ یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا کَأْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَلَا تَأْثِیْمٌ ۝ وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ کَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّکْنُوْنٌ ۝ وَ أَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَلُوْنَ ۝ قَالُوْآ إِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِیْٓ أَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ ۝ فَمَنَّ اللهُ عَلَیْنَا وَ وَقَانَا عَذَابَ السَّمُوْمِ ۝ إِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ ط إِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ ۝ (الطور، 52: 17۔28)

’’بے شک اللہ سے ڈرنے والے جنتوں اور نعمتوں میں شاداں ہوں گے۔ ان کے پروردگار نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہوگا وہ اس سے لطف اندوز ہوں گے، اور ان کا رب انہیں جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔ (ان سے کہا جائے گا:) جو تمہارے دل چاہے مزے سے کھاؤ اور پیو، یہ تمہارے ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم کیا کرتے تھے۔ اہلِ جنت نہایت عزت و شان کے ساتھ قطار میں بچھے ہوئے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے، اور ہم بڑی دلکش آنکھوں والی حوروں کو ان کی بیویاں بنائیں گے۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی، ہم ان کی اولاد کو بھی جنت میں ان سے ملا دیں گے، اور ان کے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کریں گے۔ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گروی ہے۔ ہم انہیں میوے اور ان کی پسند کا گوشت دیتے رہیں گے۔ وہ ایک دوسرے سے جام لے کر پئیں گے، جس میں نہ لغو بات ہوگی اور نہ گناہ۔ ان کے گرد خدمت گار لڑکے پھرتے ہوں گے، گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں۔ اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے۔ کہیں گے: اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں میں (دنیا میں) ڈرتے رہتے تھے۔ پس اللہ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والے عذاب سے بچا لیا۔ ہم اس سے پہلے اسی سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔ بے شک وہ بڑا احسان کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘

5. سورۃ الرحمٰن

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ ذَوَاتَآ أَفْنَانٍ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ فِیْهِمَا عَیْنَانِ تَجْرِیَانِ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ فِیْهِمَا مِنْ کُلِّ فَاکِهَةٍ زَوْجَانِ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی فُرُشٍم بَطَآئِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ط وَجَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ فِیْهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَآنٌّ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ کَأنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ هَلْ جَزَآئُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ وَمِنْ دُوْنِھِمَا جَنَّتَانِ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ مُدْهَآمَّتَانِ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ فِیْهِمَا عَیْنَانِ نَضَّاخَتَانِ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ فِیْهِمَا فَاکِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ فِیْهِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ حُوْرٌ مَّقْصُوْرَاتٌ فِی الْخِیَامِ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَآنٌّ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍ ۝ فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۝ تَبَارَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِی الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ ۝ (الرحمٰن، 55: 46۔78)

’’اور جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے، اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ وہ دونوں گھنی شاخوں والی ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان دونوں میں دو چشمے بہہ رہے ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان دونوں میں ہر پھل اور میوے کی دو دو قسمیں ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ اہلِ جنت ایسے بستروں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استر نفیس اور دبیز ریشم کے ہوں گے، اور دونوں جنتوں کے پھل قریب جھک رہے ہوں گے۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان میں نیچی نگاہ رکھنے والی حوریں ہوں گی، جنہیں ان سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا ہوگا اور نہ کسی جن نے۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے؟ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ اور ان دو جنتوں کے علاوہ دو اور جنتیں بھی ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ وہ دونوں گہری سبز رنگت والی ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان دونوں میں دو چشمے خوب چھلک رہے ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان دونوں میں پھل، کھجوریں اور انار ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان میں نیک سیرت اور خوب صورت حوریں ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ خیموں میں پردہ نشین حوریں ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ انہیں ان سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ وہ سبز قالینوں اور نفیس بچھونوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ آپ کے رب کا نام بڑی برکت والا ہے، جو عظمت و جلال اور انعام و اکرام والا ہے۔‘‘

5. سورۃ الواقعۃ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ۝ لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا کَاذِبَةٌ ۝ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ ۝ إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا ۝ وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا ۝ فَکَانَتْ هَبَآئً مُّنْبَثًّا ۝ وَّ کُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلٰـثَةً ۝ فَأَصْحَابُ الْمَیْمَنَةِ مَآ أَصْحَابُ الْمَیْمَنَةِ ۝ وَ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَآ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ۝ وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ ۝ اُولٰـئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ ۝ فِیْ جَنَّاتِ النَّعِیْمِ ۝ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِیْنَ ۝ وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ ۝ عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ ۝ مُّتَّکِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقَابِلِیْنَ ۝ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۝ بِأَکْوَابٍ وَّ أَبَارِیْقَ وَ کَأْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ ۝ لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَلَا یُنْزِفُوْنَ ۝ وَ فَاکِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۝ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ ۝ وَ حُوْرٌ عِیْنٌ ۝ کَأمْثَالِ اللُّؤْلُوْئِ الْمَکْنُوْنِ ۝ جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُونَ ۝ لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًا ۝ إِلَّا قِیْلًا سَلَامًا سَلَامًا ۝ وَ أَصْحَابُ الْیَمِیْنِ مَآ أَصْحَابُ الْیَمِیْنِ ۝ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۝ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۝ وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ۝ وَّمَآئٍ مَّسْکُوْبٍ ۝ وَّ فَاکِهَةٍ کَثِیْرَةٍ ۝ لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّلَا مَمْنُوْعَةٍ ۝ وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ ۝ إِنَّآ أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَآءً ۝ فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْکَارًا ۝ عُرُبًا أَتْرَابًا ۝ لِّاَصْحَابِ الْیَمِیْنِ ۝ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِیْنَ ۝ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ ۝ وَ أَصْحَابُ الشِّمَالِ مَآ أَصْحَابُ الشِّمَالِ ۝ فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍ ۝ وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ ۝ لَّا بَارِدٍ وَّلَا کَرِیْمٍ ۝ إِنَّهُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ ۝ وَ کَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِ ۝ وَ کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ أَئِذَا مِتْنَا وَ کُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا أَئِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ۝ أَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ ۝ قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ ۝ لَمَجْمُوْعُوْنَ اِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ۝ ثُمَّ إِنَّکُمْ أَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَ ۝ لَاٰکِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ ۝ فَمَالِؤُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَ ۝ فَشَارِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِ ۝ فَشَارِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِ ۝ هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ ۝ نَحْنُ خَلَقْنَاکُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ ۝ أَفَرَأَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ ۝ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهُٓ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَ ۝ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ ۝ عَلٰٓی أَنْ نُّبَدِّلَ أَمْثَالَکُمْ وَ نُنْشِئَکُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۝ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُوْلٰی فَلَوْلَا تَذَکَّرُوْنَ ۝ أَفَرَأَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ۝ أَ أَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهُٓ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُوْنَ ۝ لَوْ نَشَآئُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَکَّهُوْنَ ۝ إِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ ۝ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ۝ أَفَرَأَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ ۝ أَ أَنْتُمْ أَنزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ ۝ لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْکُرُوْنَ ۝ أَفَرَأَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ ۝ أَ أَنْتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَآ أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُوْنَ ۝ نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْکِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَ ۝ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ ۝ فَـلَآ أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُوْمِ ۝ وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ ۝ اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ ۝ فِیْ کِتَابٍ مَّکْنُوْنٍ ۝ لَّا یَمَسُّهٗٓ إِلَّا الْمُطَهَرُوْنَ ۝ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ ۝ أَفَبِهٰذَا الْحَدِیثِ أَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ ۝ وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ ۝ فَلَولَآ إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ ۝ وَ أَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَ ۝ وَ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْهِ مِنْکُمْ وَلٰـکِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ ۝ فَلَوْ لَآ إِنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَ ۝ تَرْجِعُوْنَهَآ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ ۝ فَأَمَّآ إِنْ کَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ۝ فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ وَّ جَنَّةُ نَعِیْمٍ ۝ وَ أَمَّآ إِنْ کَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْیَمِیْنِ ۝ فَسَلَامٌ لَّکَ مِنْ أَصْحَابِ الْیَمِیْنِ ۝ وَ أَمَّآ إِنْ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَ ۝ فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍ ۝ وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ ۝ إِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِ ۝ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ ۝ (الواقعۃ، 56: 1۔96)

’’(یاد رکھو کہ) جب قیامت واقع ہو جائے گی۔ (کہ) اس کے واقع ہونے میں کچھ بھی جھوٹ نہیں (تم اس کو آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے گی)۔ ( کسی کو) پست کرنے والی (اور کسی کو) بلند کرنے والی ہوگی (خود پرستوں کو پست کر دے گی خدا پرستوں کو بلند کر دے گی)۔ جب زمین کپکپا کر لرزنے لگے گی (یعنی زمین جلال الٰہی سے لرز رہی ہو گی)۔ اور پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ پھر غبار ہو کر اڑنے لگیں گے۔ اور تم لوگ (اس روز) تین قسموں میں بٹ جاؤ گے۔ یعنی (ایک) داہنے ہاتھ والے کیا کہنا ان داہنے ہاتھ والوں کا (یہ عرش عظیم کے داہنے جانب ہوں گے)۔ اور (دوسرے) بائیں ہاتھ واے (جو عرش عظیم کے بائیں جانب، بائیں ہاتھ میں اپنا نامہ اعمال لئے کھڑے ہوں گے) کیا برا حال ہو گا (ان) بائیں ہاتھ والوں کا۔ اور (تیسرے) سبقت لے جانے والے (یعنی جو ہر عمل صالح میں سبقت لے گئے۔ ہجرت کے لئے پہلے تیار ہوئے، جہاد کے لئے پہلے نکل کھڑے ہوئے، اسلام قبول کرنے والوں کی صف اوّل میں رہے۔ ہر کار خیر میں آگے ہی بڑھتے رہے تو قیامت کے دن بھی وہ انعامات الٰہی میں بھی) سبقت ہی لے جانے والے ہوں گے (جنت میں بھی پہلے ہی داخل ہوں گے)۔ یہی مقرب بارگاہ ہیں (ان کو اللہ کا قرب حاصل ہو گا وہ سرکار دوعالم کے نزدیک ہوں گے)۔ (وہ) نعمتوں سے معمور جنتوں میں (ہوں گے)۔ ایک بڑا گروہ اگلوں میں سے۔ اور کچھ پچھلوں میں سے (ان جنتوں میں ہوں گے)۔ (یہ مقربین) سونے کے مرصع تختوں پر۔ ایک دوسرے کے آمنے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ نوجوان خدمت گار جو ہمیشہ ایک حالت پر رہیں گے ان کے درمیان لئے پھرتے ہوں گے۔ آبخورے اور آفتابے اور پاکیزہ شراب کے پیالے۔ جس سے نہ دردِ سر ہو گا اور نہ عقل ہی میں فتور آئے گا (کہ انسان ان کو پی کر فضول بکواس کرنے لگے، یہ تو لذت و سرور کے جام ہوں گے)۔ اور میوے جو وہ پسند کریں۔ اور پرندوں کا گوشت جس کی وہ خواہش کریں۔ اور حوریں کشادہ آنکھوں والی۔ جیسے (محفوظ) پوشیدہ رکھے ہوئے موتی۔ یہ اجر ہو گا ان کے (نیک) اعمال کا۔ اس(جنت) میں نہ وہ فضول بکواس سنیں گے اور نہ وہ گناہ کی باتیں (جو ان کے دل آزاری کا سبب بنیں)۔ بس ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آواز آئے گی۔ اور داہنے (ہاتھ یا عرش عظیم کے داہنی جانب) والے کیا کہنا ان داہنے (ہاتھ) والوں کا (جن کے نامۂ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے)۔ بے خار بیریوں میں (جن کی ڈالیاں پھلوں کے بوجھ سے جھک رہی ہوں گی)۔ اور تہ بہ تہ کیلوں میں۔ اور لمبے لمبے سایوں میں۔ اور پانی کے جھرنوں میں۔ اور کثرت سے میوؤں کے باغوں میں ہوں گے۔ جس کی نہ فصل ختم ہو گی اور نہ (وہاں کوئی) روک ٹوک ہو گی۔ اور اونچے (دبیز اور پرشکوہ) فرش ہوں گے۔ اور ان کی ہم جلیس وہ عورتیں ہوں گی کہ ہم نے ان کو خاص طور پر (حسین اور لطیف انداز پر) پیدا کیا ہے۔ یعنی ہم نے ان کو کنواریاں (ہی) بنایا۔ پیار دلانے والیاں ہم عمر۔ اصحاب یمین کے واسطے (کہ اہل جنت ان کو دیکھ کر اور وہ ان کو دیکھ کر خوش ہوں اور ان پر کیفیت فضاؤں میں ان کی مسرتوں میں ان کی شریک ہوں)۔ (اور ان داہنے ہاتھ والوں کا) ایک بڑا گروہ اگلوں میں سے ۝ اور ایک بڑا گروہ پچھلوں میں سے ہو گا۔ اور بائیں ہاتھ والے (جن کے نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں ہوں گے) کیسے برے حال میں ہوں گے یہ بائیں جانب والے۔ گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی میں۔ اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔ نہ اس میں ٹھنڈک ہو گی اور نہ وہ فرحت بخش (ہو گا)۔ بیشک وہ (اہل دوزخ) اس سے پہلے بڑے خوش حال لوگ تھے (ان کو طرح طرح کی نعمتیں حاصل تھیں لیکن انہوں نے ان نعمتوں کی قدر نہ کی)۔ اور وہ گناہ عظیم (یعنی شرک، کفر) پر مصر رہتے تھے۔ اور (یہی) کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہو گئے تو کیا ہم پھر زندہ کئے جائیں گے۔ (اور ) کیا ہمارے آباؤ اجداد کو بھی (پھر زندہ کیا جائے گا جو بہت پہلے مر چکے یہ کیسے ہو سکتا ہے)۔ آپ فرمادیجئے کہ بیشک اگلوں کو بھی اور پچھلوں کو بھی۔ (یعنی) سب کو جمع کیا جائے گا ایک مقرر دن کے مقرر وقت پر۔ پھر اے جھٹلانے والے گمراہو تم کو۔ یقینا تھوہڑ کے درخت سے کھانا ہو گا۔ پھر اسی سے پیٹ بھرنا ہو گا۔ پھر اس پر گرم پانی پینا ہو گا۔ پھر تم (اسے) ایسے پیو گے جیسے پیاس کا مارا ہوا اونٹ (جو ایک سانس میں پانی چڑھاتا ہی چلا جاتا ہے)۔ یہ ہو گی قیامت کے دن ان کی مہمانی (اسی کے وہ مستحق تھے)۔ (سوچو) ہم ہی نے تم کو پیدا کیا (کیوں اس عذاب میں پڑنا چاہتے ہو) پھر کیوں اس (حیات بعد الممات) کو سچ نہیں سمجھتے۔ بھلا دیکھو جس نطفہ کو تم ٹپکاتے ہو (اس سے انسان کون بناتا ہے؟)۔ کیا اس کو تم (انسان) بناتے ہو یا اس کے بنانے والے ہم ہیں۔ ہم ہی نے تمہارے درمیان موت کو مقرر کیا ہے (جب جس کا وقت آتا ہے وہ اٹھتا جاتا ہے) اور ہم (اب بھی) عاجز نہیں۔ اس بات سے کہ (تم کو اس دنیا سے اٹھالیں اور) تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسی حالت (صورت یا ایسے جہان) میں پیدا کریں جس کو تم نہیں جانتے۔ اور تم کو تو پہلی پیدائش کا علم ہے ہی (اس میں تو شک کی گنجائش نہیں) پھر تم کیوں نہیں سوچتے (آخرت پر یقین کیوں نہیں لاتے اللہ کو کیوں یاد نہیںکرتے)۔ بھلا دیکھو تو جو تم بوتے ہو۔ کیا تم اسے اگاتے ہو یا اس کے اگانے والے ہم ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس (تمہاری کھیتی) کو چورا چورا کر ڈالیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ۔ (یہی کہو کہ) ہم تو تاوان میں پڑگئے (قرضدار بھی ہوئے اور کچھ نہ ملا)۔ بلکہ ہم تو محروم (اور بدنصیب) ہی رہے۔ بھلا (اس) پانی کو تو دیکھو جو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اس کو بادلوں سے اتارا ہے یا (اس کے) اتارنے والے ہم ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کھاری بنا دیں پھر تم شکر کیوں ادا نہیں کرتے۔ بھلا آگ ہی کو دیکھو جس کو تم سلگاتے ہو۔ کیا اس کا درخت (جس سے تم آگ نکالتے ہو) تم نے پیدا کیا یا (اس کے) پیدا کرنے والے ہم ہیں۔ ہم ہی نے تو اس (درخت) کو (اپنی قدرت و حکمت کی) یاد دلانے والا اور مسافروں کے لئے نفع کی چیز بنایا۔ پس آپ پروردگار کے نام کی پاکی بیان فرمائیے جو بڑی عظمت والا ہے۔پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے ڈوبنے کی (یا منزلوں کی) ۔ اور بیشک یہ ایک بڑی قسم ہے اگر تم سمجھو۔ بلا شبہ یہ قرآن کریم ہے (بڑی بزرگی بڑی عزت والا)۔ لوحِ محفوظ میں (لکھا ہوا ہے) ۔ اسے دل و دماغ کی پاکی ہی سے پایا جا سکتا ہے اس کو وہی چھوتے ہیں (وہی اس کی لذت کو پاتے ہیں) جو پاک (دل، پاک صفات) ہیں۔(یہ قرآن) پروردگارِ عالم کی طرف سے نازل کیاگیا ہے۔اب کیا اس بات سے تم منکر ہو۔ اور تم نے (اس کی) تکذیب کو اپنا حصہ (اپنا نصیبہ) بنالیا ہے۔ پس جب (تمہاری جان) حلق تک آپہنچتی ہے۔اور تم اس وقت (یاس و نا امیدی سے) تکتے رہ جاتے ہو (تم کو اپنی مجبوری کا شدید احساس ہوتا ہے)۔اور ہم (اس وقت بھی) تمہاری نسبت اس (مرنے والے) سے زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے (اور نہیں سمجھتے)۔پس (سوچوکہ) اگر تم کسی کے اختیار میں نہیں (تو اپنے مرتے ہوئے عزیز کو دیکھ کر)۔ اس کی روح کو کیوں نہیںلوٹا لیتے، اگر تم (اپنے دعووں میں) سچے ہو۔پس اگر وہ (اللہ کے) مقرب بندوںمیں سے ہے۔ تو اس (کی روح) کے لیے روح (یعنی راحت اور وہ کیفیت مسرت ہے جو جملہ مسرتوں کا خلاصہ، تمام ظاہری اور باطنی مسرتوں کا نچوڑ ہے) اور خوشبودار کھانے اور نعمتوں والی جنت ہے۔ اور اگر وہ اصحابِ یمین (داہنے ہاتھ والوں) میں سے ہے (جن کے اعمال اللہ کے یہاںمقبول ہوگئے جن کی لغزشوں سے درگذرکیا گیا) تو (ان کی طرف سے بھی خاطر جمع رکھو۔ اس مرنے والے سے کہا جائے گا)۔ تیرے لیے سلامتی اور امن ہے کہ توداہنے (ہاتھ) والوں میںسے ہے۔اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے۔ تو کھولتے پانی سے اس کی مہمانی ہو گی۔ اور اس کو) دوزخ میں داخل ہونا ہوگا۔ بیشک یہ (جو کچھ مقربین، مسلمین اور مکذوبین کے لیے بیان کیا گیا) یقینا حق ہے (اس میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں) ۔اے حبیب! پس آپ اپنے رب کی پاکی بیان کرتے رہیے جوبڑی عظمت والا ہے۔‘‘

6. سورۃ الحاقۃ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

فَإِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ ۝ وَّ حُمِلَتِ الْأَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّةً وَّاحِدَةً ۝ فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعةَ ۝ وَانْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌ ۝ وَالْمَلَکُ عَلٰٓی أَرْجَآئِهَا ط وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمَانِیَةٌ ۝ یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰی مِنْکُمْ خَافِیَةٌ ۝ فَأَمَّا مَنْ أُوْتِیَ کِتَابَهُ بِیَمِیْنِہٖ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتَابِیَهْ ۝ إِنِّیْ ظَنَنْتُ أَنِّیْ مُلَاقٍ حِسَابِیَهْ ۝ فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ ۝ فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍ ۝ قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ ۝ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِٓیْئًا م بِمَآ أَسْلَفْتُمْ فِی الْأَیَّامِ الْخَالِیَةِ ۝ وَ أَمَّا مَنْ أُوْتِیَ کِتَابَهٗ بِشِمَالِہٖ فَیَقُوْلُ یَا لَیْتَنِیْ لَمْ أُوْتَ کِتَابِیَهْ ۝ وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِیَهْ ۝ یَا لَیْتَهَا کَانَتِ الْقَاضِیَةَ ۝ مَآ أَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَهْ ۝ هَلَکَ عَنِّیْ سُلْطَانِیَهْ ۝ خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُ ۝ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُ ۝ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُکُوْهُ ۝ إِنَّهٗ کَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللهِ الْعَظِیْمِ ۝ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۝ فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هَاهُنَا حَمِیْمٌ ۝ وَّلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍ ۝ لَا یَأْکُلُهٗٓ إِلَّا الْخَاطِؤُوْنَ ۝ (الحاقہ، 69: 13۔37)

’’پھر جب صور میںایک بار پھونک مار دی جائے گی (یعنی پہلی بار جب صور پھونکا جائے گا)۔ اور زمین اور پہاڑ اٹھائے جائیں گے پھر ایک بارگی (پٹک کر) ریزہ ریزہ کر دیئے جائیں گے۔ پس اسی وقت وہ جس کا ہونا یقینی ہے واقع ہو جائے گی۔ اور آسمان پھٹ جائے گا پھر اس دن وہ بالکل بودا (بے حقیقت) ہو جائے گا۔ اور (جب آسمان پھٹنا شروع ہو گا تو) فرشتے اس کے کناروں پر ہو جائیں گے اور آپ کے رب کے عرش (قدرت) کو اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔ (لوگو) اس دن تم (اللہ کے روبرو) حاضر کئے جاؤ گے تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی۔ پھر جس کو اس دن اس کا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا گیا تو وہ (دوسروں سے خوش ہو کر) کہے گا لو میرا نامہ اعمال پڑھو۔ (دیکھو اللہ نے کیسا فضل فرمایا، مجھ کو دنیا میں کیسی ہدایت دی)۔ مجھے (دنیا ہی میں) یقین تھا کہ ایک دن (میرا حساب و کتاب ہونے والا ہے) میرا نامہ اعمال مجھے ملے گا۔ پس (آخرت میں) وہ خاطر خواہ زندگی بسر کرے گا۔ (یعنی) جنت کے عالی شان باغ میں ہو گا۔ جس کے میوے (پک کر) جھکے ہوئے ہوں گے (گویا توڑنے کی دعوت دے رہے ہوں گے اوراتنے قریب ہوں گے کہ آسانی سے توڑے جا سکیں)۔ (ان سے کہا جائے گا کہ اب جنت میں) خوب لطف سے کھاؤ پیو یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو تم گزشتہ دنوں میں بھیج چکے ہو۔ اور جس کو اس کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا کاش مجھے میرا نامہ اعمال دیا ہی نہ جاتا۔ اور مجھے خبر ہی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے۔ اے کاش (میری) موت (ہمیشہ کے لئے) مجھے ختم کر گئی ہوتی (کہ یہ روز دیکھنا ہی نہ پڑتا)۔ (افسوس) میرا مال بھی میرے کچھ کام نہ آیا۔ مجھ سے میری حکومت بھی جاتی رہی۔ (حکم ہو گا) اس کو پکڑ لو پھر زنجیر میں جکڑ دو۔ پھر دوزخ (کی آگ) میں اسے جھونک دو۔ تو پھر (اس دوزخ میںبھی) ایک زنجیر سے جس کا طول ستر گز ہے اس کو جکڑ دو۔ کیونکہ وہ خدائے بزرگ و برتر پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اور نہ محتاجوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا (نہ اس نے اللہ کے حقوق ادا کئے نہ اس کے بندوں سے ہمدردی کی)۔ پس آج اس کا بھی یہاں کوئی ہمدرد نہیں۔ اور اس کے لئے کوئی غذا بجز زخموں کے دھوون کے نہیں۔ جس کو سوائے گنہگاروں کے کوئی نہ کھائے گا۔‘‘

7. سورۃ المعارج

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

سَأَلَ سَآئِلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۝ لِّلْکَافِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌ ۝ مِّنَ اللهِ ذِی الْمَعَارِجِ ۝ تَعْرُجُ الْمَلَآئِکَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ أَلْفَ سَنَةٍ ۝ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا ۝ إِنَّھُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًا ۝ وَّ نَرَاهُ قَرِیْبًا ۝ یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَآءُ کَالْمُھْلِ ۝ وَ تَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ ۝ وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا ۝ یُّبَصَّرُوْنَھُمْ ط یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْهِ ۝ وَ صَاحِبَتِہٖ وَ أَخِیْهِ ۝ وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِ ۝وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْهِ ۝ کَلَّا ط إِنَّھَا لَظٰی ۝ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰی ۝ تَدْعُوْا مَنْ أَدْبَرَ وَ تَوَلّٰی ۝ وَ جَمَعَ فَأَوْعٰی ۝ (المعارج، 70: 1۔18)

’’ایک طلب کرنے والے نے (سرکارِ دوعالم ﷺ سے ازراهِ انکار) اس عذاب کو طلب کیا جو واقع ہو کر رہے گا۔ (اور) جو منکروں کے واسطے ہے جس کو ٹالا نہ جا سکے گا۔ (وہ اس) اللہ کی طرف سے ہو گا جو بلندیوں کا مالک ہے۔ (یہ وہ وقت ہو گا جب) فرشتے اور جبریل اس کی طرف عروج کریں گے (اور یہ عذاب) اس دن(ہو گا) جس کا اندازہ (دنیا کے) پچاس ہزار سال ہے۔ (پس آپ ان کے سوال سے آزردہ خاطر نہ ہوں اور) صبر فرمائیں (وہ ) صبر جمیل (جو آپ کی ذات کے ساتھ خاص ہے)۔ وہ ان لوگوں کی نگاہ میں دور ہے۔ اور ہماری نظر میں قریب ہے۔ (یہ وہ دن ہو گا) جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہو گا۔ اور پہاڑ رنگین اون کے گالے کی طرح ہوں گے (ہلکے اور مختلف رنگ کے)۔ اور کوئی دوست کسی دوست کا پرسان حال نہ ہو گا۔ حالانکہ ایک دوسرے کو دیکھتے بھی ہوں گے (مگر کوئی کسی کا ہمدرد نہ ہو گا دوست ہو یا عزیز اور) گنہگار تمنا کرے گا کہ کسی طرح اس روز کے عذاب سے بچنے کے لئے(بدلے میں) اپنے بیٹے دے دے۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو بھی۔ اور اپنے (کل) خاندان کو جن میں وہ (دن رات) رہتا تھا۔ اور جو لوگ زمین میں ہیں (بس چلے تو) سب کو دے دے، پھر (کسی طرح) اپنے کو (اس عذاب الٰہی سے) بچا لے۔ (لیکن ایسا) ہرگز نہیں (ہو سکتا عذاب الٰہی سے اسے کوئی چیز نہیں بچا سکتی ان کے لئے) وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ جو کھال ادھیڑ ڈالنے والی ہے (وہ اس میں جھونکے جائیں گے)۔ وہ ہر اس شخص کو پکارے گی جس نے (اللہ کے حکم سے دنیا میں) پیٹھ پھیری اور روگردانی کی ہو گی۔ اور (مال و دولت) جمع کیا اور اس کو سنبھال (سنبھال) کر رکھا ہو گا۔‘‘

8. سورۃ الدھر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

إِنَّ الْأَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُھَا کَافُوْرًا ۝ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَھَا تَفْجِیْرًا ۝ یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا ۝ وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ أَسِیْرًا ۝ إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآءً وَّلَا شُکُوْرًا ۝ إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا ۝ فَوَقَاھُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِکَ الْیَوْمِ وَ لَقَّاھُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًا ۝ وَ جَزَاھُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًا ۝ مُّتَّکِئِیْنَ فِیْھَا عَلَی الْاَرَآئِکِ لَا یَرَوْنَ فِیْھَا شَمْسًا وَّلَا زَمْھَرِیْرًا ۝ وَ دَانِیَةً عَلَیْھِمْ ظِلَالُھَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُھَا تَذْلِیْلًا ۝ وَ یُطَافُ عَلَیْھِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ أَکْوَابٍ کَانَتْ قَوَارِیْرَا ۝ قَوَارِیْرَا مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْھَا تَقْدِیْرًا ۝ وَ یُسْقَوْنَ فِیْھَا کَأْسًا کَانَ مِزَاجُھَا زَنْجَبِیْلًا ۝ عَیْنًا فِیْھَا تُسَمّٰی سَلْسَبِیْلًا ۝ وَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ج إِذَا رَأَیْتَهُمْ حَسِبْتَھُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا ۝ وَ إِذَا رَأَیْتَ ثُمَّ رَأَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْکًا کَبِیْرًا ۝ عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ إِسْتَبْرَقٌ وَّ حُلُّوْآ أَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ج وَ سَقَاھُمْ رَبُّھُمْ شَرَابًا طَھُوْرًا ۝ إِنَّ ھٰذَا کَانَ لَکُمْ جَزَآءً وَّ کَانَ سَعْیُکُمْ مَّشْکُوْرًا ۝ (الدھر، 76: 5۔22)

’’البتہ نیکوکار ایسے جام پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہو گی (جس کی ٹھنڈک، نورانیت و فرحت اپنی مثال آپ ہو گی، وہ کافور کیا ہے؟)۔ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے (خاص) بندے (جو اللہ نے ان کے لئے مقدر فرمایا ہے) پئیں گے (اور دوسروں کو بھی اس میں سے پلائیں گے اور اپنی نظر التفات سے) جہاں چاہیں گے اسے بہا کر لے جائیں گے۔ اپنی منتوں کو پورا کرتے ہیں اور اس (قیامت کے) دن سے ڈرتے ہیں جس (دن) کی مصیبت پھیل پڑے گی۔ اور( یہ وہ لوگ ہیں جو) مسکین، یتیم اور قیدی کو اس کی (یعنی اللہ کی) محبت میں کھانا کھلاتے ہیں۔ (ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ) ہم تم کو محض اللہ کی خوشنودی کے لئے کھانا کھلاتے ہیں نہ ہم تم سے کوئی معاوضہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔ ہم تو اپنے پروردگار سے اس دن(کے بارے میں) ڈرتے ہیں جو نہایت اداس کرنے والا (اور) سخت ہو گا۔ پھر اللہ ان کو (ان کے اس خدشہ اور خوف کے باعث) اس دن کے شر سے بچالے گا اور ان کو (یعنی ان کے چہروں کو) شگفتگی اور (دلوں کو) سرور عطا فرمائے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے ان کو جنت اور ریشمی پوشاک عطا ہو گی۔ وہ لوگ اس میں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں نہ تو وہ (گرمی کی) تپش محسوس کریں گے نہ (سردی کی) ٹھٹھرن (ایک خوشگوار موسم ہو گا)۔ اور اس کے (درختوں کے) سائے ان سے قریب ہوں گے اور میوؤں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے (کہ جس طرح چاہیں وہ ان سے لطف اندوز ہوں)۔ اور( خدام) ان کے اردگرد چاندی کے ظروف اور شیشے کے (سے صاف ستھرے) گلاس لئے پھرتے ہوں گے۔ اور شیشے بھی چاندی کے جن کو انہوں نے (خدام نے) ٹھیک انداز سے (اور ہر شخص کی خواہش کے مطابق) بھرا ہو گا۔ اور ان (جنتیوں) کو وہاں ایسے جام پلائے جائیں گے جن میں زنجبیل کی آمیزش ہو گی (جو اپنی لذت اور فرحت میں اپنی مثال آپ ہو گی اس کا قیاس دنیا کی زنجبیل اور جنجر پر نہ کرنا چاہئے)۔ (یہ تو جنت کا) ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے۔ اور ان کے پاس(پیارے پیارے) بچے آئیں جائیں گے جو ہمیشہ ویسے ہی رہیں گے اگر تو ان کو دیکھے تو سمجھے کہ (گویا) موتی ہیں جو بکھر گئے ہیں۔ اور (اے مخاطب اس کا حال یوں سمجھ کہ) اس میں تو(جدھر نظر اٹھا کر) دیکھے گا تجھے نعمت ہی نعمت اور بڑی بادشاہت نظر آئے گی(جو ہر جنتی کو نصیب ہو گی اور)۔ ان ( جنتیوں) کے جسم پر باریک سبز ریشم اور دبیز ریشم کے کپڑے ہوں گے اور ان کو (بطور اعزاز خاص کے) چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار انہیں پاکیزہ شراب پلائے گا (جو قلب کو منور سے منور تر کر دے)۔ (اور ان سے کہا جائے گا کہ اے اہل جنت) یہ ہے تمہارا صلہ اور تمہاری محنت (جو تم دنیا میں اللہ کو راضی کرنے کے لئے کیا کرتے تھے آج) ٹھکانے لگی۔‘‘

9. سورۃ المرسلات

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ۝ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا ۝ وَّ النَّاشِرَاتِ نَشْرًا ۝ فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا ۝ فَالْمُلْقِیَاتِ ذِکْرًا ۝ عُذْرًا أَوْ نُذْرًا ۝ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌ ۝ فَإِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ ۝ وَ إِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْ ۝ وَ إِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ ۝ وَ إِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ ۝ لِأَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْ ۝ لِیَوْمِ الْفَصْلِ ۝ وَ مَا اَدْرٰکَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِ ۝ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۝ اَلَمْ نُھْلِکِ الْاَوَّلِیْنَ ۝ ثُمَّ نُتْبِعُھُمُ الْاٰخِرِیْنَ ۝ کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ ۝ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۝ أَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّھِیْنٍ ۝ فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۝ إِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ۝ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُوْنَ ۝ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۝ أَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتًا ۝ أَحْیَآءً وَّ أَمْوَاتًا ۝ وَّ جَعَلْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ أَسْقَیْنَاکُمْ مَّآءً فُرَاتًا ۝ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۝ اِنْطَلِقُوْآ إِلٰی مَا کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ۝ اِنْطَلِقُوْآ إِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ ۝ لَّا ظَلِیْلٍ وَّلَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّھَبِ ۝ إِنَّھَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ ۝ کَأَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌ ۝ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۝ ھٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَ ۝ وَلَا یُؤْذَنُ لَھُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ ۝ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۝ ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ جَمَعْنَاکُمْ وَالْاَوَّلِیْنَ ۝ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ کَیْدٌ فَکِیْدُوْنِ ۝ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۝ إِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلاَلٍ وَّ عُیُوْنٍ ۝ وَّ فَوَاکِهَ مِمَّا یَشْتَھُوْنَ ۝ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا ھَنِٓیْئًام بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۝ إِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۝ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۝ کُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا إِنَّکُمْ مُّجْرِمُوْنَ ۝ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۝ وَ إِذَا قِیْلَ لَھُمُ ارْکَعُوْا لَا یَرْکَعُوْنَ ۝ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۝ فَبِأَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَهٗ یَؤْمِنُوْنَ ۝ (المرسلٰت، 77)

’’ قسم ہے ان نرم خوشگوار ہواؤں کی جو (انسان کے نفع اور فرحت کے لئے) بھیجی جاتی ہیں۔ پھر (قسم ہے) تندو تیز ہواؤں کی (جو انتشار کا سبب بنتی ہیں)۔ اور قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو (بادلوں کو ہر طرف) پھیلا دیتی ہیں۔ پھر ان کی جو (بادلوں کو) پھاڑ کر جدا جدا کر دیتی ہیں۔ پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو وحی کو اتار کر لاتے ہیں۔ حجت تمام کرنے یا ڈرانے کے لئے۔ بیشک تم سے جو وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور (پورا) ہو کر رہے گا ( یعنی قیامت واقع ہو کر رہے گی)۔ پھر (یہ وہ وقت ہو گا) جب تارے بے نور ہو جائیں گے۔ اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور جب پہاڑ (ریزہ ریزہ ہو کر) اڑتے پھریں گے۔ اور جب رسولوں کو وقت معین پر جمع کیا جائے گا (کہ وہ ایک ترتیب سے اپنی اپنی امتوں کو لے کر رب العزت کے سامنے حاضر ہوں)۔ ( جانتے ہو کہ یہ سب کچھ) کس دن کے لئے ملتوی رکھا گیا ہے؟۔ فیصلہ کے دن کے لئے (جو روز قیامت ہے)۔ اور (اے مخاطب) تجھ کو کیا معلوم کہ وہ فیصلہ کا دن کیسا ہے۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی(سخت تباہی) ہے۔کیا ہم نے اگلوں کو (جنہوں نے حق کو جھٹلایا تھا) ہلاک نہیں کر ڈالا۔ پھر ہم ان پچھلوں کو بھی (جو دین کی تکذیب پر مصر ہیں) انہیں کے پیچھے بھیج دیں گے (یہ بھی انہیں کے ساتھ رہیں گے)۔ گنہگاروں کے ساتھ ہم ایسا ہی (سلوک) کیا کرتے ہیں۔ (یقینا) اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی ہے۔ (لوگو تم اپنی پیدائش پر غور کیوں نہیں کرتے؟) کیا ہم نے تم کو حقیر پانی (کی ایک بوند) سے پیدا نہیں کیا۔ پھر اس کو ایک محفوظ جگہ (رحم مادر) میں رکھا۔ ایک وقت معین تک۔ پھر ہم نے ایک اندازہ ٹھہرایا (کہ وقت مقررہ میں ایک پانی کے قطرہ سے بتدریج انسان بنے) پس ہم کیا خوب اندازہ ٹھہرانے والے ہیں۔ جھٹلانے والوں کے لئے اس دن سخت خرابی (سخت عذاب ہے)۔ (ذرا یہ لوگ زمین کی تخلیق ہی پر غور کریں) کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے اور مردوں کے لئے (یعنی زندوں کے لئے یہی زمین بقائے زیست کا سامان لئے ہوئے ہے اور مردوں کے لئے گوشہ قبر)۔ اور ہم نے زمین پراونچے اونچے پہاڑ رکھ دیئے اور (اسی زمین میں شیریں چشمے جاری کر دئیے اور) ہم نے تم کو میٹھا پانی پلایا۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔ (ان سے کہا جائے گا کہ اب) اس (عذاب) کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ تم (دوزخ کے دھویں کے) اس سائے کی طرف چلو جس کے تین حصے ہیں۔ جس میں نہ (ٹھنڈا) سایہ ہو گا اور نہ وہ (آگ کی) لپٹ سے بچائے گا۔ (بلکہ) وہ (ایسے) انگارے برسائے گا (جس کی چنگاریاں اور شعلے اتنے بڑے ہوں گے) جیسے محل (تو اندازہ کرو کہ وہ دوزخ کیا ہو گی)۔ (ان شعلوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہو گا) گویا یہ زرد اونٹوں کی قطاریں ہیں (جن کو ان کفار نے اکثر دیکھا ہے لیکن آج ان پر یہ سواری کی تمنا نہ کریں گے)۔ (یاد رکھو کہ) جھٹلانے والوں کے لئے اس دن بڑی خرابی (سخت تباہی) ہے۔ یہ وہ دن ہوگا کہ نہ وہ بول ہی سکیں گے۔ اور نہ ان کو یہی اجازت ہوگی کہ عذر پیش کریں۔ (خوب سن لیں کہ) جھٹلانے والوں کے لئے اس دن بڑی تباہی ہے۔ (اے حق کی تکذیب کرنے والو) یہ فیصلہ کا دن ہے (جس میں) ہم نے تم کو اور اگلوں کو جمع کر لیا ہے (تاکہ فیصلہ کے وقت سب کو ایک دوسرے کا حال معلوم ہو اور پھر سزا بھگتنے کے لئے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں)۔ پھر اگر تمہارے پاس (عذاب سے بچنے کی) کوئی تدبیر ہو تومجھ سے کر چلو۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی ہے۔ بلاشبہ (اللہ سے) ڈرنے والے (اس کی رحمت کے) سایوں اور چشموں میں ہوں گے (ہر سمت رحمت ہی رحمت ہو گی)۔ اور (وہ) ان میوؤں میں ہوں گے جو وہ پسند کریں۔ (ان سے کہا جائے گا) اب مزے سے کھاؤ پیو ان اعمال کے صلہ میں جو تم کیا کرتے تھے۔ (اور) ہم نیکو کاروں کو یوں ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ (حق کی) تکذیب کرنے والوں کے لئے اس دن بڑی خرابی ہے۔ (اے حق سے انکار کرنے والو! اس دنیا میں) تم تھوڑے دن کھا (پی) لو اور فائدہ اٹھا لو بیشک تم مجرم ہو۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے سخت تباہی ہے۔ اور (ان کفار کا تو یہ حال ہے کہ) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے سامنے) جھکو (اس کا حکم مانو، اس کی عبادت کرو تو) یہ نہیں جھکتے۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے سخت عذاب ہے (دوزخ کا ایک مخصوص گڑھا ان کا منتظر ہے)۔ آخر اس (قرآن و حدیث) کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘

10. سورۃ النازعات

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا ۝ وَّ النَّاشِطَاتِ نَشْطًا ۝ وَّ السَّابِحَاتِ سَبْحًا ۝ فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا ۝ فَالْمُدَبِّرٰتِ أَمْرًا ۝ یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ ۝ تَتْبَعُھَا الرَّادِفَةُ ۝ قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌ ۝ أَبْصَارُھَا خَاشِعَةٌ ۝ یَقُوْلُوْنَ أَئِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِ ۝ ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً ۝ قَالُوْا تِلْکَ إِذًا کَرَّةٌ خَاسِرَةٌ ۝ فَإِنَّمَا ھِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ ۝ فَإِذَا ھُمْ بِالسَّاھِرَةِ ۝ (النازعات، 79: 1۔14)

’’ان (فرشتوں) کی قسم جو (کافروں کی جان انکے جسموں کے ایک ایک انگ میں سے ) نہایت سختی سے کھینچ لاتے ہیں۔ اور ان (فرشتوں) کی قسم جو (مومنوں کی جان کے) بند نہایت نرمی سے کھول دیتے ہیں۔ اور ان (فرشتوں) کی قسم جو (زمین و آسمان کے درمیان) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں۔ پھر ان (فرشتوں) کی قسم جو لپک کر (ایک دوسروں سے) آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پھر ان (فرشتوں) کی قسم جو مختلف امور کی تدبیر کرتے ہیں۔ اس دن (کائنات کی) ہر متحرک چیز شدید حرکت میں آ جائے گی۔ پیچھے آنے والا ایک اور زلزلہ اس کے پیچھے آئے گا۔ اس دن (لوگوں کے) دل خوف و اضطراب سے دھڑکتے ہوں گے۔ ان کی آنکھیں (خوف و ہیبت سے) جھکی ہوں گی۔ (کفار) کہتے ہیں کیا ہم پہلی زندگی کی طرف پلٹائے جائیں گے۔ کیا جب ہم بوسیدہ (کھوکھلی) ہڈیاں ہو جائیںگے (تب بھی زندہ کئے جائیں گے؟)۔ وہ کہتے ہیں یہ (لوٹنا) تو اس وقت بڑے خسارے کا لوٹنا ہو گا۔ پھر تو یہ ایک ہی بار شدید ہیبت ناک آواز کے ساتھ (کائنات کے تمام اجرام کا ) پھٹ جانا ہو گا۔ پھر وہ (سب لوگ) یکایک کھلے میدان (حشر) میں آ موجود ہوں گے۔‘‘

11. سورۃ التکویر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ۝ وَ إِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ ۝ وَ إِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ ۝ وَ إِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ۝ وَ إِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ ۝ وَ إِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ۝ وَ إِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۝ وَ إِذَا الْمَوْؤٗدَةُ سُئِلَتْ ۝ بِأَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ ۝ وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ۝ وَ اِذَا السَّمَآءُ کُشِطَتْ ۝ وَ إِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ ۝ وَ إِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ ۝ عَلِمَتْ نَفْسٌ مّآ أَحْضَرَتْ ۝ فَـلَآ أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ۝ الْجَوَارِ الْکُنَّسِ ۝ وَالَّیْلِ إِذَا عَسْعَسَ ۝ وَ الصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ ۝ إِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۝ ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ۝ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِیْنٍ ۝ وَ مَا صَاحِبُکُمْ بِمَجْنُوْنٍ ۝ وَلَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ ۝ وَمَا ھُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ ۝ وَ مَا ھُوَ بِقَوْلِ شَیْطَانٍ رَّجِیْمٍ ۝ فَأَیْنَ تَذْهَبُوْنَ ۝ إِنْ ھُوَ إِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعَالَمِیْنَ ۝ لِمَنْ شَآءَ مِنْکُمْ أَنْ یَّسْتَقِیْمَ ۝ وَ مَا تَشَآؤُوْنَ إِلَّا أَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ ۝ (التکویر، 81)

’’جب سورج لپیٹ کر بے نور کر دیا جائے گا۔ اور جب ستارے (اپنی کہکشاؤں سے) گر پڑیں گے۔ اور جب پہاڑ (غبار بنا کر فضا میں) چلا دیئے جائیں گے۔ اور جب حاملہ اونٹنیاں بیکار چھوٹی پھریں گی۔ اور جب وحشی جانور (خوف کے مارے) جمع کر دیئے جائیں گے۔ جب سمندر اور دریا (سب) ابھار دیئے جائیں گے۔ اور جب روحیں (بدنوں سے) ملا دی جائیں گی۔ اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ کہ وہ کس گناہ کے باعث قتل کی گئی تھی۔ اور جب اعمال نامے کھول دیئے جائیں گے۔ اور جب سماوی طبقات کو پھاڑ کر اپنی اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی۔ اور جب جنت قریب کر دی جائے گی۔ ہر شخص جان لے گا جو کچھ اس نے حاضر کیا ہے۔ تو میں قسم کھاتا ہوں ان (آسمانی کروں) کی جو (ظاہر ہونے کے بعد) پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ جو بلاروک ٹوک چلتے رہتے ہیں (پھر ظاہر ہو کر) چھپ جاتے ہیں۔ اور رات کی قسم جب اس کی تاریکی جانے لگے۔ اور صبح کی قسم جب اس کی روشنی آنے لگے۔ بیشک یہ (قرآن) بڑی عزت و بزرگی والے رسول کا (پڑھا ہوا) کلام ہے۔ جو قوت و ہمت والے ہیں (اور) مالک عرش کے حضور بڑی قدر و منزلت (اور جاہ و عظمت) والے ہیں۔ (تمام جہانوں کے لئے) واجب الاطاعت ہیں (کیونکہ ان کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے) امانتدار ہیں۔ اور (اے لوگو!) یہ تمہیں اپنی صحبت سے نوازنے والے (محمد ﷺ ) دیوانے نہیں (جو فرماتے ہیں وہ حق ہوتا ہے)۔ اور بیشک انہوں نے اس (مالک عرش کے حسن مطلق) کو (لامکان کے) روشن کنارے پر دیکھا ہے۔ اور وہ (نبی اکرم) غیب (کے بتانے) پر بالکل بخیل نہیں ہیں (مالک عرش نے ان کے لئے کوئی کمی نہیں چھوڑی)۔ اور وہ (قرآن) ہرگز کسی شیطان مردود کا کلام نہیں ہے۔ پھر (اے بدبختو!) تم (اتنے بڑے خزانے کو چھوڑ کر) کدھر چلے جا رہے ہو۔ یہ (قرآن) تو تمام جہانوں کے لئے (صحیفہ) نصیحت ہے۔ تم میں سے ہر اس شخص کے لئے (اس چشمہ سے ہدایت میسر آ سکتی ہے) جو سیدھی راہ چلنا چاہے۔ اور تم وہی کچھ چاہ سکتے ہو جو اللہ چاہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘

12. سورۃ الإنفطار

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

إِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ ۝ وَ إِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ ۝ وَ إِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ۝ وَ إِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ ۝ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ أَخَّرَتْ ۝ یٰٓا أَیُّھَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ ۝ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰکَ فَعَدَلَکَ ۝ فِیْٓ أَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ ۝ کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِ ۝ وَ إِنَّ عَلَیْکُمْ لَحَافِظِیْنَ ۝ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ ۝ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ ۝ إِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ ۝ وَ ِإنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ ۝ یَّصْلَوْنَھَا یَوْمَ الدِّیْنِ ۝ وَ مَا ھُمْ عَنْھَا بِغَآئِبِیْنَ ۝ وَ مَآ أَدْرَاکَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِ ۝ ثُمَّ مَآ اَدْرَاکَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِ ۝ یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًاط وَالْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ ۝ (الانفطار، 82: 1۔19)

’’جب (سب ) آسمانی کرّے پھٹ جائیں گے۔ اور جب سیارے گر کر بکھر جائیں گے۔ اور جب سمندر (اور دریا) ابھر کر بہہ جائیں گے۔ اور جب قبریں زیر و زبر کر دی جائیں گی۔ تو ہر شخص جان لے گا کہ کیا عمل اس نے آگے بھیجا اور (کیا) پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ اے انسان! تجھے کس چیز نے اپنے رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا۔ جس نے تجھے پیدا کیا پھر اس نے تجھے درست اور سیدھا کیا پھر وہ تیری ساخت میں متناسب تبدیلی لایا۔ جس صورت میں بھی چاہا اس نے تجھے ترکیب دے دیا۔ حقیقت تو یہ ہے (اور) تم اس کے برعکس روز جزا کو جھٹلاتے ہو۔ حالانکہ تم پر نگہبان فرشتے مقرر ہیں۔ (جو) بہت معزز ہیں (تمہارے اعمال نامے) لکھنے والے ہیں۔ وہ ان ( تمام کاموں) کو جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔ بیشک نیکو کار جنت نعمت میں ہوں گے۔ اور بیشک بدکار دوزخ (سوزاں) میں ہوں گے۔ وہ اس میں قیامت کے روز داخل ہوں گے۔ اور وہ اس(دوزخ) سے (کبھی بھی ) غائب نہ ہو سکیں گے۔ او ر آپ نے کیا سمجھا کہ روز جزا کیا ہے؟۔ پھر آپ نے کیا جانا کہ روز جزا کیا ہے؟۔ (یہ) وہ دن ہے جب کوئی شخص کسی کے لئے کسی چیز کا مالک نہ ہو گا اور حکم فرمائی اس دن اللہ ہی کی ہو گی۔‘‘

13. سورۃ المطففین

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

کَلَّآ إِنَّ کِتَابَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ ۝ وَ مَآ أَدْرَاکَ مَا عِلِّیُّوْنَ ۝ کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ ۝ یَّشْھَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ۝ إِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ ۝ عَلَی الْأَرَآئِکِِ یَنْظُرُوْنَ ۝ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِ ۝ یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ ۝ خِتَامُهٗ مِسْکٌ ط وَ فِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ ۝ وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ ۝ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا الْمُقَرَّبُوْنَ ۝ (المطففین، 83: 18۔28)

’’یہ (بھی) حق ہے کہ بیشک نیکوکاروں کا نوشتۂِ اعمال علّییّن(یعنی دیوان خانۂ جنت) میں ہے۔ اور آپ نے کیا جانا کہ علّییّن کیا ہے؟۔ (یہ جنت کے اعلیٰ درجہ میں اس بڑے دیوان کے اندر) لکھی ہوئی (ایک) کتاب ہے۔ اس جگہ (اللہ کے) مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ بیشک نیکوکار (راحت و مسرت سے) نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ تختوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے۔ آپ ان کے چہروں سے ہی نعمت و راحت کی رونق اور شگفتگی معلوم کر لیں گے۔ انہیں سر بہ مہر بڑی لذیز شراب طہور پلائی جائے گی۔ اس کی مہک کستوری کی سی ہو گی اور (یہی وہ شراب ہے) جس کے حصول میں شائقین کو جلد کوشش کرکے سبقت لینی چاہئے۔ اور اس (شراب) میں آب تسنیم کی آمیزش ہو گی۔ (یہ تسنیم) ایک چشمہ ہے جہاں سے صرف اہل قربت پیتے ہیں۔‘‘

14. سورۃ الإنشقاق

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

إِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ ۝ وَ أَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَ حُقَّتْ ۝ وَ إِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۝ وَ أَلْقَتْ مَا فِیْھَا وَ تَخَلَّتْ ۝ وَ أَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتْ ۝ یَآأَیُّھَا الْإِنْسَانُ إِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْهِ ۝ فَأَمَّا مَنْ أُوْتِیَ کِتَابَهٗ بِیَمِیْنِہٖ ۝ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا ۝ وَّ یَنْقَلِبُ إِلٰٓی أَهْلِہٖ مَسْرُوْرًا ۝ وَ أَمَّا مَنْ أُوْتِیَ کِتَابَهٗ وَرَآءَ ظَھْرِہٖ ۝ فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًا ۝ وَّ یَصْلٰی سَعِیْرًا ۝ إِنَّهٗ کَانَ فِیْٓ أَھْلِہٖ مَسْرُوْرًا ۝ إِنَّهٗ ظَنَّ أَنْ لَّنْ یَّحُوْرَ ۝ بَلٰٓی إِنَّ رَبَّهٗ کَانَ بَہٖ بَصِیْرًا ۝ (الانشقاق، 84: 1۔15)

’’جب (سب) آسمانی کرّے پھٹ جائیں گے۔ اور اپنے رب کا حکم (انشقاق) بجا لائیں گے اور (یہی تعمیل امر) اس کے لائق ہے۔ اور جب زمین (ریزہ ریزہ کر کے) پھیلا دی جائے گی۔ اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ اسے نکال باہر پھینکے گی اور خالی ہو جائے گی۔ اور (وہ بھی) اپنے رب کا حکم (انشقاق) بجا لائے گی اور (یہی اطاعت) اس کے لائق ہے۔ اے انسان! تو اپنے رب تک پہنچنے میں سخت مشقتیں برداشت کرتا ہے بالآخر تجھے اسی سے جا ملنا ہے۔ پس جس شخص کا نامۂ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ تو عنقریب اس سے آسان سا حساب لیا جائے گا۔ اور وہ اپنے اہل خانہ کی طرف مسرور و شاداں پلٹے گا۔ اور البتہ وہ شخص جس کا نامۂ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ تو وہ عنقریب موت کو پکارے گا۔ اور دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا۔ بیشک وہ (دنیا میں ) اپنے اہل خانہ میں خوش و خرم رہتا تھا۔ بیشک اس نے یہ گمان کر لیا تھا کہ وہ حساب کے لئے (اللہ کے پاس) ہرگز لوٹ کر نہ جائے گا۔ کیوں نہیں بیشک اس کا رب اس کو خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘

15. سورۃ الغاشیۃ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

ھَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِ ۝ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ ۝ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ ۝ تَصْلٰی نَارًا حَامِیَةً ۝ تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍ ۝ لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ ۝ لَّا یُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ ۝ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ ۝ لِّسَعْیِھَا رَاضِیَةٌ ۝ فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍ ۝ لاَّ تَسْمَعُ فِیْھَا لَاغِیَةً ۝ فِیْھَا عَیْنٌ جَارِیَةٌ ۝ فِیْھَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌ ۝ وَّ أَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ ۝ وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌ ۝ وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌ ۝ (الغاشیۃ، 88: 1۔16)

’’کیا آپ کو (ہر چیز پر ) چھا جانے والی قیامت کی خبر پہنچی ہے۔ اس دن کتنے ہی چہرے ذلیل و خوار ہوں گے۔ (اللہ کو بھول کر دنیاوی) محنت کرنے والے (چند روزہ عیش و آرام کی خاطر سخت) مشقتیں جھیلنے والے۔ دہکتی ہوئی آگ میں جا گریں گے۔ (انہیں) کھولتے ہوئے چشمہ سے (پانی) پلایا جائے گا۔ ان کے لئے خاردار خشک زہریلی جھاڑیوں کے سوا کچھ کھانا نہ ہو گا۔ (یہ کھانا) نہ فربہ کرے گا اور نہ بھوک ہی دور کرے گا۔ ( اس کے برعکس) اس دن بہت سے چہرے (حسین) بارونق اور تروتازہ ہوں گے۔ اپنی (نیک) کاوشوں کے باعث خوش و خرم ہوں گے۔ عالیشان جنت میں(قیام پذیر) ہوں گے۔ اس میں کوئی لغویات نہ سنیں گے۔ اس میں بہتے ہوئے چشمے ہوں گے۔ اس میں اونچے (بچھے ہوئے) تخت ہوں گے۔ اور جام ( بڑے قرینے سے) رکھے ہوئے ہوں گے۔ اور غالیچے اور گاؤ تکیے قطار در قطار لگے ہوں گے۔ اور نرم و نفیس قالین اور مسندیں بچھی ہوں گی۔‘‘

16. سورۃ القارعۃ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝

اَلْقَارِعَةُ ۝ مَا الْقَارِعَةُ ۝ وَ مَآ اَدْرَاکَ مَا الْقَارِعَةُ ۝ یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ ۝ وَ تَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ الْمَنْفُوْشِ ۝ فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ ۝ فَھُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ ۝ وَ أَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ ۝ فَاُمُّهٗ ھَاوِیَةٌ ۝ وَ مَآ اَدْرَاکَ مَاھِیَهْ ۝ نَارٌ حَامِیَةٌ ۝ (القارعۃ، 101: 1۔11)

’’کھڑکھڑا دینے والا شدید جھٹکا اور کڑک۔ وہ (ہر شے کو) کھڑ کھڑا دینے والا شدید جھٹکا اور کڑک کیا ہے؟۔ اور آپ کیا سمجھے ہیں کہ (ہر شے کو) کھڑ کھڑا دینے والے شدید جھٹکے اور کڑک سے مراد کیا ہے؟۔ (اس سے مراد) وہ یوم قیامت ہے جس دن (سارے) لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔ اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہو جائیں گے۔ پس وہ شخص کہ جس (کے اعمال) کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ تو وہ خوشگوار عیش و مسرت میں ہو گا۔ اور جس شخص کے (اعمال کے) پلڑے ہلکے ہوں گے۔ تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ (جہنم کا گڑھا) ہو گا۔ اور آپ کیا سمجھے ہیں کہ ہاویہ کیا ہے؟۔ (وہ جہنم کی) سخت دہکتی ہوئی آگ (کا انتہائی گہرا گڑھا) ہے۔‘‘

کلیدی الفاظ: نسبت، روحانی تعلق، سلوک، تصوف

ماخذ: الفیوضات المحمدیہ، ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (منہاج بکس)