سورہ المعارج (المعارج) - اردو ترجمہ

سُورَةُ المَعَارِج

سورہ المعارج — عروج کے زینات

المعارج (عروج)

سورہ 70 · مکی · 44 آیات

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

المعارج 70:1

سَأَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍۢ وَاقِعٍۢ

ایک سائل نے ایسا عذاب طلب کیا جو واقع ہونے والا ہے،

المعارج 70:2

لِّلْكَٰفِرِينَ لَيْسَ لَهُۥ دَافِعٌۭ

کافروں کے لئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں،

المعارج 70:3

مِّنَ ٱللَّهِ ذِى ٱلْمَعَارِجِ

(وہ) اللہ کی جانب سے (واقع ہوگا) جو آسمانی زینوں (اور بلند مراتب درجات) کا مالک ہے،

المعارج 70:4

تَعْرُجُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍۢ كَانَ مِقْدَارُهُۥ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍۢ

اس (کے عرش) کی طرف فرشتے اور روح الامین عروج کرتے ہیں ایک دن میں، جس کا اندازہ (دنیوی حساب سے) پچاس ہزار برس کا ہے٭، ٭ فِی یَومٍ اگر وَاقِعٍ کا صلہ ہو تو معنی ہوگا کہ جس دن (یومِ قیامت) کو عذاب واقع ہوگا اس کا دورانیہ ٥٠ ہزار برس کے قریب ہے۔ اور اگر یہ تَعرُجُ کا صلہ ہو تو معنی ہوگا کہ ملائکہ اور اَرواحِ مومنین جو عرشِ اِلٰہی کی طرف عروج کرتی ہیں ان کے عروج کی رفتار ٥٠ ہزار برس یومیہ ہے، وہ پھر بھی کتنی مدت میں منزلِ مقصود تک پہنچتے ہیں۔ واﷲ أعلم بالصواب۔ (یہاں سے نوری سال (لا‌ّّّئٹ ائیر) کے تصور کا اِستنباط ہوتا ہے۔)

المعارج 70:5

فَٱصْبِرْ صَبْرًۭا جَمِيلًا

سو (اے حبیب!) آپ (کافروں کی باتوں پر) ہر شکوہ سے پاک صبر فرمائیں،

المعارج 70:6

إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُۥ بَعِيدًۭا

بے شک وہ (تو) اس (دن) کو دور سمجھ رہے ہیں،

المعارج 70:7

وَنَرَىٰهُ قَرِيبًۭا

اور ہم اسے قریب ہی دیکھتے ہیں،

المعارج 70:8

يَوْمَ تَكُونُ ٱلسَّمَآءُ كَٱلْمُهْلِ

جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا،

المعارج 70:9

وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ

اور پہاڑ (دُھنکی ہوئی) رنگین اُون کی طرح ہو جائیں گے،

المعارج 70:10

وَلَا يَسْـَٔلُ حَمِيمٌ حَمِيمًۭا

اور کوئی دوست کسی دوست کا پرساں نہ ہوگا،

المعارج 70:11

يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ ٱلْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِى مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍۭ بِبَنِيهِ

(حالانکہ) وہ (ایک دوسرے کو) دکھائے جا رہے ہوں گے، مجرم آرزو کرے گا کہ کاش! اس دن کے عذاب (سے رہائی) کے بدلہ میں اپنے بیٹے دے دے،

المعارج 70:12

وَصَٰحِبَتِهِۦ وَأَخِيهِ

اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (دے ڈالے)،

المعارج 70:13

وَفَصِيلَتِهِ ٱلَّتِى تُـْٔوِيهِ

اور اپنا (تمام) خاندان جو اُسے پناہ دیتا تھا،

المعارج 70:14

وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا ثُمَّ يُنجِيهِ

اور جتنے لوگ بھی زمین میں ہیں، سب کے سب (اپنی ذات کے لئے بدلہ کر دے)، پھر یہ (فدیہ) اُسے (اللہ کے عذاب سے) بچا لے،

المعارج 70:15

كَلَّآ ۖ إِنَّهَا لَظَىٰ

ایسا ہرگز نہ ہوگا، بے شک وہ شعلہ زن آگ ہے،

المعارج 70:16

نَزَّاعَةًۭ لِّلشَّوَىٰ

سر اور تمام اَعضائے بدن کی کھال اتار دینے والی ہے،

المعارج 70:17

تَدْعُوا۟ مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّىٰ

وہ اُسے بلا رہی ہے جس نے (حق سے) پیٹھ پھیری اور رُوگردانی کی،

المعارج 70:18

وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰٓ

اور (اس نے) مال جمع کیا پھر (اسے تقسیم سے) روکے رکھا،

المعارج 70:19

۞ إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ خُلِقَ هَلُوعًا

بے شک انسان بے صبر اور لالچی پیدا ہوا ہے،

المعارج 70:20

إِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ جَزُوعًۭا

جب اسے مصیبت (یا مالی نقصان) پہنچے تو گھبرا جاتا ہے،

المعارج 70:21

وَإِذَا مَسَّهُ ٱلْخَيْرُ مَنُوعًا

اور جب اسے بھلائی (یا مالی فراخی) حاصل ہو تو بخل کرتا ہے،

المعارج 70:22

إِلَّا ٱلْمُصَلِّينَ

مگر وہ نماز ادا کرنے والے،

المعارج 70:23

ٱلَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَآئِمُونَ

جو اپنی نماز پر ہمیشگی قائم رکھنے والے ہیں،

المعارج 70:24

وَٱلَّذِينَ فِىٓ أَمْوَٰلِهِمْ حَقٌّۭ مَّعْلُومٌۭ

اور وہ (ایثار کیش) لوگ جن کے اَموال میں حصہ مقرر ہے،

المعارج 70:25

لِّلسَّآئِلِ وَٱلْمَحْرُومِ

مانگنے والے اور نہ مانگنے والے محتاج کا،

المعارج 70:26

وَٱلَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ

اور وہ لوگ جو روزِ جزا کی تصدیق کرتے ہیں،

المعارج 70:27

وَٱلَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ

اور وہ لوگ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں،

المعارج 70:28

إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍۢ

بے شک ان کے رب کا عذاب ایسا نہیں جس سے بے خوف ہوا جائے،

المعارج 70:29

وَٱلَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَٰفِظُونَ

اور وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،

المعارج 70:30

إِلَّا عَلَىٰٓ أَزْوَٰجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ

سوائے اپنی منکوحہ بیویوں کے یا اپنی مملوکہ کنیزوں کے، سو (اِس میں) اُن پر کوئی ملامت نہیں،

المعارج 70:31

فَمَنِ ٱبْتَغَىٰ وَرَآءَ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْعَادُونَ

سو جو ان کے علاوہ طلب کرے تو وہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں،

المعارج 70:32

وَٱلَّذِينَ هُمْ لِأَمَٰنَٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَٰعُونَ

اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی نگہداشت کرتے ہیں،

المعارج 70:33

وَٱلَّذِينَ هُم بِشَهَٰدَٰتِهِمْ قَآئِمُونَ

اور وہ لوگ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں،

المعارج 70:34

وَٱلَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ

اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں،

المعارج 70:35

أُو۟لَٰٓئِكَ فِى جَنَّٰتٍۢ مُّكْرَمُونَ

یہی لوگ ہیں جو جنتوں میں معزّز و مکرّم ہوں گے،

المعارج 70:36

فَمَالِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ

تو کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ کی طرف دوڑے چلے آرہے ہیں،

المعارج 70:37

عَنِ ٱلْيَمِينِ وَعَنِ ٱلشِّمَالِ عِزِينَ

دائیں جانب سے (بھی) اور بائیں جانب سے (بھی) گروہ در گروہ،

المعارج 70:38

أَيَطْمَعُ كُلُّ ٱمْرِئٍۢ مِّنْهُمْ أَن يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍۢ

کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ (بغیر ایمان و عمل کے) نعمتوں والی جنت میں داخل کر دیا جائے گا؟،

المعارج 70:39

كَلَّآ ۖ إِنَّا خَلَقْنَٰهُم مِّمَّا يَعْلَمُونَ

ہرگز نہیں، بے شک ہم نے انہیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ (بھی) جانتے ہیں،

المعارج 70:40

فَلَآ أُقْسِمُ بِرَبِّ ٱلْمَشَٰرِقِ وَٱلْمَغَٰرِبِ إِنَّا لَقَٰدِرُونَ

سو میں مشارق اور مغارب کے رب کی قَسم کھاتا ہوں کہ بے شک ہم پوری قدرت رکھتے ہیں،

المعارج 70:41

عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ خَيْرًۭا مِّنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ

اس پر کہ ہم بدل کر ان سے بہتر لوگ لے آئیں، اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں،

المعارج 70:42

فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا۟ وَيَلْعَبُوا۟ حَتَّىٰ يُلَٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ

سو آپ انہیں چھوڑ دیجئے کہ وہ اپنی بے ہودہ باتوں اور کھیل تماشے میں پڑے رہیں یہاں تک کہ اپنے اس دن سے آملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے،

المعارج 70:43

يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ ٱلْأَجْدَاثِ سِرَاعًۭا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍۢ يُوفِضُونَ

جس دن وہ قبروں سے دوڑتے ہوئے یوں نکلیں گے گویا وہ بتوں کے اَستھانوں کی طرف دوڑے جا رہے ہیں،

المعارج 70:44

خَٰشِعَةً أَبْصَٰرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌۭ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يُوعَدُونَ

(ان کا) حال یہ ہو گا کہ ان کی آنکھیں (شرم اور خوف سے) جھک رہی ہوں گی، ذِلت ان پر چھا رہی ہوگی، یہی ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا،

اردو ترجمہ: عرفان القرآن، ڈاکٹر محمد طاہر القادری۔ عربی متن: Tanzil.net