Nisbat | پانچویں نسبت: نسبتِ توحید

حصہ اول › باب 3: وظائف النسبات

پانچویں نسبت: نسبتِ توحید

نسبتِ توحید کے حصول کے وظائف

اس نسبت کے حصول کیلئے ’’ذکر اللہ اورتفکر فی خلق اللہ‘‘ خاص وظائف ہیں۔

اس مقصد کے حصول کے لئے کثرت سے دلجمعی اور قلبی شوق و محبت کے ساتھ درج ذیل اسماء اور آیات کا بطورِ وظیفہ پڑھنا مفید ہے:

وظیفۂ ذکر کے لئے اسماء اور آیات

1. یَا اَحَدُ یَا وَاحِدُ

2. یَا صَمَدُ یَا حَقُّ

3. یَا مُحْیِی یَا مُمِیْتُ

4. یَا اوَّلُ یَا آخِرُ

5. یَا اللهُ یَا خَالِقُ

6. یَا بَارِئُ یَا مُصَوِّرُ

7. یَا مُبْدِئُ یَا مُعِیْدُ

8. سورۃ اٰل عمران

إِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْهُ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ۝

(آل عمران، 3: 51)

’’بیشک اللہ میرا رب ہے اور تمہارا بھی (وہی) رب ہے پس اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔‘‘

9. سورۃ الأنفال

وَ إِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْٓا أَنَّ اللهَ مَوْلَاکُمْ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ ۝ (الانفال، 8: 40)

’’اور اگر انہوں نے (اطاعت حق سے) روگردانی کی، تو جان لو کہ بیشک اللہ ہی تمہارا مولیٰ (یعنی حمایتی) ہے (وہی) بہتر حمایتی اور بہتر مدد گار ہے۔‘‘

10. سورۃ التوبۃ

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ إِلَّا مَا کَتَبَ اللهُ لَنَا ھُوَ مَوْلَانَا وَ عَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۝ (التوبہ، 9: 51)

’’(اے حبیب ﷺ ) آپ فرما دیجئے کہ ہمیں ہرگز (کچھ) نہیں پہنچے گا مگر وہی کچھ جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے وہی ہمارا کارساز ہے اور اللہ ہی پر ایمان والوں کو بھروسہ کرنا چاہئے۔‘‘

11. سورۃ یونس

وَ إِنْ یَّمْسَسْکَ اللهُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہُٓ إِلَّا ھُوَ وَ إِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِهٖ ط یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ ط وَ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۝ (یونس، 10: 107)

’’ اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو کوئی اس کے فضل کو رد کرنے والا نہیں وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے اور وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘

12. سورۃ ھود

مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا ھُوَ اٰخِذٌ م بِنَاصِیَتِهَا ط إِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۝ (ھود، 11: 56)

’’اور کوئی چلنے والا (جاندار) ایسا نہیں مگر وہ اسے اس کی چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے (یعنی مکمل طور پر اس کے قبضہ قدرت میں ہے) بیشک میرا رب (حق و عدل میں) سیدھی راہ پر (چلنے سے ملتا ) ہے۔‘‘

13. سورۃ الأسراء

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَم یَکُنْ لَّهٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ وَ لِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرْهُ تَکْبِیْرًا ۝ (بنی اسرائیل، 17: 111)

’’ اور فرمائیے کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے نہ تو (اپنے لئے) کوئی بیٹا بنایا اورنہ ہی (اس کی) سلطنت و فرمانروائی میں کوئی شریک ہے اور نہ کمزوری کے باعث اس کا کوئی مددگار ہے( اے حبیب) آپ اسی کو بزرگ ترجان کر اس کی خوب بڑائی (بیان) کرتے رہیئے۔‘‘

14. سورۃ مریم

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ ط هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِیًّا ۝ (مریم، 19: 65)

’’ (وہ) آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ اس کے درمیان ہے( سب) کا رب ہے پس اس کی عبادت کیجئے اور اس کی عبادت میں ثابت قدم رہیئے کیا آپ اس کا کوئی ہم نام جانتے ہیں؟ ۔‘‘

15. سورۃ طٰـہٰ

إِنَّمَآ إِلٰهُکُمُ اللهُ الَّذِیْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا هُوَ ط وَسِعَ کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًا ۝ (طہ، 20: 98)

’’ (لوگو!) تمہارا معبود صرف (وہی) اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہر چیز کو (اپنے) علم کے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔‘‘

16. سورۃ الأنبیاء

لَوْ کَانَ فِیْهِمَآ اٰلِهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۝ (الانبیاء، 21: 22)

’’ اور اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے پس اللہ جو عرش کا مالک ہے ان (باتوں) سے پاک ہے جو یہ (مشرک) بیان کرتے ہیں ۔‘‘

17. سورۃ القصص

وَلَا تَدْعُ مَعَ اللهِ اِلٰـھًا اٰخَرَم لَآ إِلٰهَ إِلَّا هُوَ کُلُّ شَیْئٍ هَالِکٌ إِلَّا وَجْهَهُ ط لَهُ الْحُکْمُ وَ إِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ۝ (القصص، 28: 88)

’’ اور تم اللہ کے ساتھ کسی دوسرے (خود ساختہ) معبود کو نہ پکارو، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے حکم اسی کا ہے اور تم (سب) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘

18. سورۃ فاطر

یَآ أَیُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ إِلَی اللهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۝ (فاطر، 35: 15)

’’ اے لوگو (اللہ تمہاری عبادت کا محتاج نہیں) تم ہی اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ ہی بے نیاز اور سزاوار حمد (و ثنا) ہے۔‘‘

19. سورۃ الزمر

اللهُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ وَّ هُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ ۝ (الزمر، 39: 62)

’’(جنت و دوزخ، آسمان و زمین، یہ کائنات اللہ کی تخلیق ہے) اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر شے کا نگہبان ہے۔‘‘

20. سورۃ الجاثیۃ

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۝ وَلَهُ الْکِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۝ (الجاثیۃ، 45: 36،37)

’’ پس تمام خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا رب ہے (اور وہی) سب جہانوں کا پروردگار ہے۔ اور اسی کے لئے بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی زبردست حکمت والا ہے۔‘‘

21. سورۃ الرحمٰن

کُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ ۝ وَّ یَبْقٰی وَجْهُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ ۝ (الرحمٰن، 55: 26-27)

’’ جو کچھ بھی زمین پر ہے سب فنا ہو جانے والا ہے۔ اور صرف آپ کے پروردگار کی ذات باقی رہ جائے گی جو نہایت بزرگی اور عظمت والی ہے۔‘‘

22. سورۃ الملک

أَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ۝ (الملک، 67: 14)

’’ بھلا جس نے پیدا کیا، کیا وہ نہ جانے گا (اس کو تو اپنے بندوں کی ہر بات کی خبر ہے) اور وہ تو بڑا باریک بیں (خوش تدبیر، باطن سے آگاہ اور ظاہر و باطن سے) بڑا باخبر ہے۔‘‘

23. سورۃ المزمل

وَ اذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ إِلَیْهِ تَبْتِیْلًا ۝ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ إِلٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَکِیْلاً ۝ (المزمل، 73: 8،9)

’’اور آپ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہیے اور سب کو چھوڑ کر (سب سے الگ ہو کر) اسی کے ہو جائیے۔ (وہی آپ کا رب) مشرق و مغرب کا مالک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو( پھر) اسی کو آپ اپنا کارساز بنائے رکھئے۔ ‘‘

24. سورۃ الدہر

وَمَا تَشَآؤُوْنَ إِلَّآ أَنْ یَّشَآءَ اللهُ ط إِنَّ اللهَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا ۝ (الدھر، 76: 30)

’’ اور (لوگو) تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے بجز اس کے جو خدا ہی کو منظور ہو، بیشک اللہ (سب کچھ) جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔‘‘

Keywords: nisbat, spiritual connection, sulook, tasawwuf

Source: Al-Fuyudat al-Muhammadiyya, Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri (Minhaj Books)